کیا ہوگا اگر دنیا سے انسان اچانک ختم ہو جائیں ؟ What would happen if humans disappeared From Earth Suddenly

if humans disappeared From Earth

دنیا بھر کا نظام ایک مستقل حرکت میں ہے۔  روز کی نئی تعمیرات اور گلوبل وارمنگ میں زمین کا حلیہ اور نقشہ بگاڑ کے رکھ دیا ہے اور اس کی بڑھتی ہوئی وجہ انسانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی بھی ہے۔  لیکن کیا کبھی آپ نے یہ سوچا ہے کہ اگر زمین پر رہنے والے انسان ایک دم سے غائب ہو جائے یا کہیں چلے جائے تو اس دنیا کی حالت کیا ہوگی اور اس کا مستقبل کیا ہوگا؟  اگر آپ نہیں جانتے یا جاننے کا تجسس رکھتے ہیں تو آج ہم آپ کو اس آرٹیکل میں بتائیں گے کہ کیا ہوگی اس دنیا کی حالت اگر اس پر سے انسان ایک دم سے غائب ہو جائے ۔ 

جیسے انسان زمین سے غائب ہو گا اس کے چند گھنٹوں بعد ہی زمین پہ چلنے والی لائٹس ایک کرکے بند ہونا شروع ہوجائیں گے ۔ کیونکہ بجلی کی سپلائی کرنے والے گریڈ سٹیشن ایک ایک کر کے کام کرنا ختم ہو جائیں گے۔  کیونکہ دنیا میں پائے جانے والے زیادہ تر گریڈ اسٹیشن فوسل فیول سے کام کرتے ہیں تو اگر ان کو چلانے والے انسان ہی نہیں رہیں گے تو یہ اپنا کام کرنا بند کر دیں گے۔  اس کے علاوہ نیوکلیئر انرجی بھی اس دنیا پر بہت زیادہ پائی جاتی ہے تو اگر اس کو چلانے والا انسان 48 گھنٹے تک موجود نہ ہو تو یہ خود بخود سے سیفٹی موڈ پر چلے جائیں گے اور بند ہو جائیں گے جس سے دنیا بھر میں انرجی کی شدید کمی ہو جائے گی ۔ مٹی کی ایک گہری لیئر جمنے کی وجہ سے سولر پینل بھی کام کرنا بند کر دیں گے۔  اسی طرح اپنا لبریکینٹ ختم ہونے تک ونڈ ملز اپنا کام جاری رکھیں گے ۔ 

حیران کن طور پر بجلی سے پیدا کرنے والے پاور پلانٹ کچھ سال تک خود بخود چلتے ہی رہیں گے کیونکہ ان کو اسی طرح سے ہی بنایا جاتا ہے کہ یہ خود کار طریقے سے اپنے آپ کو چلائے رکھیں اور انہیں انسانوں کی طرف سے زیادہ دیکھ بھال کی ضرورت بھی نہیں ہوتی ۔ 

اس کے اگلے چند دن بعد ہی زیر زمین ریلوے اور میٹرو اسٹیشن پانی اور سیلاب میں ڈوبنا شروع ہوجائیں گے کیونکہ وہ پاور موٹر خود بخود بند ہو جائیں گے جو کہ ان کو پانی کے بھرجانے سے بچائے رکھتے ہیں ۔ 

دس دن کے بعد پالتو جانور پانی اور بھوک کی وجہ سے برا شروع ہوجائیں گے۔  لاکھوں کروڑوں مرغیاں بھینس گائے ایک ایک کرکے مرنا شروع ہوجائیں گے۔  لیکن جو جانور گھروں سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے وہ کچھ عرصہ مزید زندہ رہنے میں شاید کامیاب ہوجائیں۔  اسی طرح کئی بڑے جانور چھوٹے جانوروں کو کھا کے اپنی بھوک مٹانا شروع کر دیں گے ۔ 

کچھ ماہ بعد نیو کلیئر ریکٹرز کے پلاٹس میں کولنگ واٹر کی کمی کی وجہ سے دھماکہ ہونا شروع ہوجائیں گے اور ان کی ریڈی ایشنز کے اثرات دور دور تک پھیل جائیں گے جس سے ان علاقوں میں پائے جانے والے پھل دار پودے اور جاندار سے شدید متاثر ہوں گے۔  لیکن کچھ عرصہ بعد زمین اس ریڈیو ایکٹیو ریڈی ایشنز سے نکلنے میں کامیاب ہو جائیں گے  ۔ 

ایک سال کے بعد ہی زمین کے گرد گھومتی سیٹلائٹ زمین پر ٹوٹتے ہوئے ستاروں کی طرح گرنا شروع ہو جائیں گے۔  لیکن سب سے بڑی سیٹلائٹ کو زمین پر گرنے میں اس سے زیادہ وقت درکار ہو سکتا ہے ۔ 

25 سال بعد زمین کی تمام گزرگاہیں اور سڑکیں سبزے سے بھر جائیں گے۔  ہر طرف ہریالی ہو جائے گی جس سے کہ جنگل جیسا ماحول بن جائے گا اور 75 فیصد زمین اس جنگل سے بھر جائے گی جس کی وجہ سے گھاس کھانے والے جنگلی جانور وہاں پھیل جائیں گے اور انہیں گھاس کھانے والے جانوروں کے پیچھے پیچھے شکاری جنگلی جانور بھی ان کے پیچھے وہاں موجود ہوں گے اور ان کی خون ریزی کرنا شروع کردیں گے ۔ 

دبئی اور لاس ویگس جیسے علاقے دوبارہ سے ریت میں دھنس جائیں گے ۔ 

تین سو سال گزرنے کے بعد دھاتی تعمیرات جیسے کہ ایفل ٹاور اور بہت سارے دھاتی پل مینٹیننس نہ ہونے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گے اور زمین نشیبی علاقے جنہیں بند باندھ کر پانی سے بچایا گیا تھا وہ بند ٹوٹ جائیں گے اور وہ سارے علاقے زیر آب آ جائیں گے اور اس طرح کی جاندار واپس اپنے گھروں میں آجائیں گے جن کو کہ انسانوں نے چھین لیا تھا ۔ 

انسانوں کی غیر موجودگی میں ایسے جاندار جن کی نسل کو خطرہ ہے ان کی نسل خوب پڑے گی ۔ 

دس ہزار سال بعد انسانوں کی بنائی ہوئی صرف پتھر کی تعمیرات ہی باقی رہ جائیں گی  جیسا کہ مصر کے پیرامیٹرز اور چائنا کی لمبی دیوار جو کہ کئی ملین سال تک قائم رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ 

پچاس ملین سال کے بعد انسانی تہذیب کے فوسلز کے طور پر صرف پلاسٹک اور شیشے کے ٹکڑے ہی باقی رہ جائیں گے اور وہ بھی اگر مزید پچاس سالوں میں ختم ہونا شروع ہو جائیں گے۔  اس طرح زمین انسان  کے پھیلائے ہوئے گندگی اور کوڑا کرکٹ سے زمین خود کو آزاد کرائے گی ۔ 

چار سو ملین سال گزرنے کے بعد زمین پر ایک ایسی جنگلی جاندار یا نسل وجود میں آئے گی جس کو شاید کبھی پتہ بھی نہ ہو کہ اس زمین پر کوئی انسانوں جیسی نسل بھی پائی جاتی تھی ۔

No comments:

Powered by Blogger.