کیا ہوگااگر چاند فوری طور پر غائب ہو گیا


دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ سوویت یونین اور اس کے حامیوں کے درمیان سرد جنگ کا آغاز ہو گیا۔  یہ جنگ پوری دنیا پر اپنی برتری اور حکمرانی قائم کرنے کی تھی۔  ان دونوں ریاستوں نے اپنی فوجی طاقت دکھانے کے لئے کی تباہ کن ہتھیار بنانا شروع کر دیے جن میں سب سے زیادہ قابل فہرست اور نامور ایٹم بم ہے ۔

سوویت یونین نے جب پہلی مرتبہ خلائی تجربے شروع کیے تو یہ زمینی جنگ خلائی جنگ بن گی۔  4 اکتوبر 1957 کو سوویت یونین نے آرٹیفیشل سیٹلائٹ خلا میں پہلی مرتبہ چھوڑا جس کو دیکھتے ہوئے امریکہ میں بہت زیادہ کھلبلی مچ گئی اور کئی تجربات کے مراحل سے گزرتے ہوئے سترہ مارچ انیس سو اٹھاون کو امریکہ نے بھی کامیابی سے ایک سیٹلائٹ زمین کے مدار میں چھوڑ دیں اور وہ سیٹلائٹ آج تک مدار میں موجود حرکت کر رہی ہے اور اس کے بعد خلا کی جنگ میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے امریکہ اور سوویت یونین میں اپنے تجربات کو بڑھاتے چلے گئے اور اس کے بعد دونوں سپرپاور کے لئے چاند کو سر کرنا اپنا مقصد بنالیا گیا ۔

حالیہ شائع ہونے والی خفیہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دونوں سوپر پاور اس جنگ کو جیتنے کے لیے کسی بھی حد کو پار کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے دونوں سوپر پاور نے نیوکلیئر ہتھیار استعمال کرتے ہوئے چاند کو اڑانے کا منصوبہ بھی بنا لیا۔  امریکہ نے اس پروجیکٹ کا نام پروجیکٹ اے ون ون نائن رکھا۔  یہ منصوبہ بھی 1958 میں رکھا گیا تھا تاکہ امریکہ پوری دنیا کو اپنی طاقت دکھا کر اپنے کنٹرول میں کر سکیں۔  اسی طرح ناسا کا چاند پر جانا بھی ایک ڈرامہ تھا جو صرف سوویت یونین پر اپنی برتری قائم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا ۔ 

امریکن ملٹری اور سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے نیوکلیئر میزائل چاند کی سطح پر ٹکرانے کا بھیانک منصوبہ بنایا جس کو کہ چاند کی سطح سے ٹکرا نہ تھا۔  یہ 1.7 کلو ٹن وزنی ‏‏w25 بم تھا ۔ امریکن ملٹری کا خیال تھا کہ اس عظیم دھماکے کے بعد بہت زیادہ چمکدار لائٹ چاند کی سطح سے نکلے گی جو کہ زمین پر رہنے والی ہر آنکھ بخوبی دیکھ سکے گی اور ایک بہت بڑی گرد بھی اڑے گی جو کہ روس کی اس برتری کی دوڑ کو اڑا کے لے کے جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ چاند کی سطح کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں گے۔  مگر خوش قسمتی سے اس دور کے کئی نیوکلیئر ہتھیار بھی مل کر اس کی سطح کو تباہ کرنے کے قابل نہ تھے اور اسی طرح آج کے دور کے نیوکلیئر ہتھیار بھی چاند کو تباہ کرنے کی صلاحیت کے قائل نہیں ہے ۔ 

تجربات کرنے والے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ وہ دو میل کی دوری سے اس میزائل کو چاند سے ٹکرا سکتے ہیں اور اس کا نظارہ ہر عام آنکھ سے زمین پر دیکھا جا سکے گا ۔ لیکن بعد میں ان کو یہ بھی خیال آیا کہ اس عمل کے بعد عوام کی بہت زیادہ نفرت دیکھنے کو ملے گی جس کے باعث امریکہ دنیا میں اپنی رہی سہی عزت کو بھی ملیامیٹ کر دے گا۔  یہ احساس ہوتے ہی اس پروجیکٹ کو ختم کر دیا گیا اور بند کر دیا گیا اور اس کے بعد اپنی توجہ خلا میں ہتھیار بھیجنے کی بجائے انسان بھیجنے پر لگادی گئی اور امریکی حکومت کے لیے مجبوری بن گیا کہ وہ چاند سر کرنے کا ڈرامہ رچایا جائے ۔ 

صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ سویت یونین نے بھی بالکل اسی طرح کا ایک منصوبہ بنایا ہوا تھا جسے پروجیکٹ ای فور کا نام دیا گیا تھا۔  اس پروجیکٹ کے تحت بھی چاند کو ایک نیوکلئیر میزائیل سے اڑانا تھا ۔ مگر وہی امریکہ والے تحفظات کو سمجھتے ہوئے اس منصوبے کو مکمل نہ کیا گیا ۔ 

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ چاند انسانی پیدائش سے بھی پہلے اس کائنات میں موجود ہے اور اس کے انسانی زندگی پر بہت زیادہ گہرے اثرات ہوتے ہیں ۔ پھر چائے وہ رات کی روشنی ہو یا موسمیاتی تبدیلیوں کی صورت میں اوریا کشش ثقل کی صورت میں۔  لیکن کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اگر کسی دھماکے کے باعث چاند کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے تو کیا ہوگا ؟ عین ممکن ہے زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے چاند کے یہ ٹکڑے زمین کے گرد چکر لگانا شروع کر دیں اور زمین کے گرد ایک ایسا حلقہ وجود میں آجائے گا جو کہ سیٹرن ستارے کے باہر موجود ہے ۔ زمین کے مدار میں موجود سیٹلائٹس اپنا وجود قائم نہیں رکھ پائے گی اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائیں گے۔  اس کے علاوہ انسانوں کا بھی زمین کے مدار سے باہر نکلنا ناممکن ہو جائے گا۔  ہو سکتا ہے کہ یہ ٹکڑے زمین سے بہت زیادہ سپیڈ سے بھی ٹکرا جائے اور بہت بڑی تباہی کا باعث بنے ۔ 

اگر چاند نہ رہے تو رات کے وقت آسمان کالا لیکن ستاروں سے بھرا ہوا نظر آئے گا ۔ اس کے علاوہ آپ زندگی میں کبھی چاند گرہن بھی نہیں دیکھ پائیں گے ۔


No comments:

Powered by Blogger.