مچھلی پانی میں کیوں رہتی ہے؟ حضرت امام علی کا جواب
حضرت علی کے کمال و فضائل بولنا جتنا بھی آسان ہو اس سے زیادہ مشکل بھی ہے۔ اس لیے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کے کمال و فضائل کا ایسا بیکراں سمندر ہیں کہ جس میں انسان جتنا زیادہ غوطہ لگائے جائے گا اتنا ہی فضائل کے موتی حاصل کرتا جائے گا۔ وہ علم کا ایک ایسا سمندر ہے جن کی تہہ تک پہنچنا ناممکن ہے ۔
حضرت علی کرم اللہ وجہ کو ایسے انسان نہیں جنہوں نے کسی مدرسے یا کسی شخص سے علم حاصل کیا ہو بلکہ آپ کا علم خداوند عالم سے عطا کردا ہے۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم حضرت علی کرم اللہ وجہ کامچھلی کے بارے میں بیان تفصیل سے بیان کریں گے کہ مچھلی صرف پانی میں ہی زندہ کیوں رہتی ہے اور مچھلی کو ذبح کیوں نہیں کیا جاتا ؟
مچھلی ایک آبی جانور ہے۔ اس کا سارا بدن سلکی چھلکوں سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے۔ جب کہ پانی میں تیرنے کے لیے اس کے پاس خصوصی پر بھی ہوتے ہیں ۔ لیکن ایک بات جو ہم سب کے ذہن میں اٹکا لگائے رہتی ہے وہ یہ ہے کہ مچھلی صرف پانی میں ہی زندہ کیوں رہتی ہے اور کیوں پانی سے باہر نکلنے پر یہ تڑپ کر اپنی جان دے دیتی ہے؟ جدید سائنس کی روشنی میں سائنس دانوں نے ان سوالوں کے جواب تو دیے لیکن جو چیز حضرت علی کرم اللہ وجہ نے چودہ سو سال پہلے ہی بتا دی تھی اس کو آج کے سائنسدان بھی جھٹلا نہیں سکتے ۔
ایک دن ایک آدمی حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے دربار میں حاضر ہوا اور ان سے کہا کہ، حضرت علی ہر جانور کی زبان ہوتی ہے مگر مچھلی کے منہ میں زبان کیوں نہیں ہوتی مزید یہ بھی پوچھا کہ مچھلی سے پانی میں کیوں رہتی ہے ؟
اس سوال کے جواب میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ، اللہ تعالی نے مچھلی کو بولنے اور زمین پر چلنے پھرنے کی طاقت بھی دی تھی لیکن افسوس کہ اس نے خود پر ظلم کیا اور اللہ تعالی نے اس کو ان نعمتوں سے محروم کر دیا ۔
وہ شخص کہنے لگا، یا علی کون سے ظلم
تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کہ جس میں روح ڈالی اور ہر فرشتے کو حکم دیا کہ وہ ان کو سجدہ کرے تو تب فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کیا ، ،لیکن شیطان نے انکار کر کے اللہ کی نافرمانی کا مرتکب ہوا اور ہمیشہ کے لیے ملعون ٹھہرا اور کہنے لگا کہ میں تو آگ سے بنا ہوا ہوں اور یہ مٹی سے بنا ہوا ہے۔ اس جرم کی پاداش میں ابلیس کو بدصورت بنا کر جنت سے نکال دیا اور زمین پر بھیج دیا وہ حسد میں پاگل ہو کر چیخنے چلانے لگا کے انسان زمین پر سب پر ظلم کرے گا۔ تو اے شخص اس وقت مچھلیاں زمین پر چلا بھی کرتی تھی اور ان کے منہ میں زبان بھی ہوتی تھی، تو اس نے سب سے پہلے مچھلیوں کو ہی ورغلایا اور انہیں کہا کہ جیسے ہی انسان زمین پر اترے گا تو وہ سب سے پہلے تمہیں خنجر سے کاٹ کھائے گا اور اپنا پیٹ بھرے گا ، جیسا ہی مچھلی نے یہ سب سنا تو وہ سمندر میں ہر آبی مخلوق کو انسان کے خلاف بھڑکانے میں لگ گئی ، تو یوں اللہ تعالی نے اس کے منہ سے زبان کو غائب کر دیا اور یہ فرمان بھی جاری کردیا کہ کوئی انسان تو زندہ نہیں کاٹے گا بلکہ ہم نے تمہاری حد قدرت پانی تک رکھ دی ہے تم جو ہی پانی سے باہر نکلو گی تو خود ہی تڑپنے لگ جاؤ گی ۔
معزز قارئین اسی لیے جیسے ہی مچھلی کو پانی سے باہر نکالا جاتا ہے تو وہ تڑپنے لگتی ہے اور اس کے سارے جسم کا خون اس کی گردن کے حصے میں آ جاتا ہے اور اسی وجہ سے مچھلی کو ذبح بھی نہیں کیا جاتا۔ جانور کو ذبح کرنا اسی لئے واجب ہوتا ہے کہ اس کا خون بہہ کر گوشت سے الگ ہو جائے لیکن اللہ کے قانون کے مطابق پانی سے باہر نکلتے ہی مچھلی کا خود ہی خون گوشت سے الگ ہو کر گردن کے حصے میں جمع ہو جاتا ہے ۔
No comments: