انسانی جسمانی حدود کے بارے میں دلچسپ حقائق - Interesting Facts about Human Body Limits
بلاشبہ انسانی جسم اللہ تعالی کے تخلیق کردہ لاجواب چیز ہے جو ہر طرح کے ماحول اور خطروں سے گزر جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پھر وہ چاہے خطرہ جس طرح کے بھی ہو، چاہے اندرونی یا بیرونی۔ اس آرٹیکل میں ہم انسانی جسم کے کچھ حالات میں گزر جانے کے دلچسپ واقعات کو پڑھیں گے۔ امید ہے کہ آج کا ہمارا یہ آرٹیکل آپ کو بہت پسند آئے گا ۔
دوستوں ایک زندہ انسانی جسم کو تابوت میں رکھ کر زمین میں دفن کردیا جائے تو یقینا آکسیجن کی کمی کی وجہ سے دم گھٹنے سے موت واقع ہو سکتی ہے۔ مگر جتنا جلدی یہ سمجھا جاتا ہے عام طور پر یہ عمل اتنی تیز نہیں ہوتا ۔ دفنائے جانے کے بعد اگر ایک انسان گہرے سانس دے اور آہستہ آہستہ سانس کو خارج کرے تو وہ تقریبا 2 سے 5 گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے ۔
دنیا کا سرد ترین علاقہ براعظم انٹارکٹکا ہے۔ یہاں کا درجہ حرارت کبھی کبھی مائنس 90 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر چلا جاتا ہے اور کسی بھی انسانی جسم کو بغیر کسی خاص اقدامات کے لمحوں میں جمانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے اور اس جمنے کی شروعات آنکھوں اور پھیپھڑوں سے ہوتی ہے۔ ٹھیک آدھے گھنٹے کے بعد باقی جسم کے حصے بھی سکڑنا شروع ہوجائیں گے جو کہ ٹھنڈ کی وجہ سے جسم میں موجود خون کی نالیاں منجمد ہو جاتی ہیں اور دماغ کنفیوژن کا شکار ہوکر کر اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے۔ اس کے بعد آپ کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ آپ کس جگہ پہ ہے اور آپ یہاں کر کیا رہے ہیں ۔ اس کے کچھ دیر بعد ہی انسانی جسم ہائپوتھرمیا کا شکار ہو جاتا ہے۔ مائنس 65 ڈگری پہنچتے ہیں آپ کا جسم موت کا شکار ہو جائے گا ۔
دوستو اگر ہوائی جہاز کے سفر کے دوران 30 ہزار فٹ کی بلندی سے ایک انسان کو بغیر پیراشوٹ کے چھلانگ لگانے کو کہا جائے تو وہ ایک سو تہتر فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھے گا اور زمین تک پہنچنے کے لئے اسے تقریبا تین منٹ کا وقت درکار ہوگا ۔ تیس ہزار فٹ کی بلندی سے گرتے ہیں انسان کو آکسیجن کی کمی کا نشانہ بننا پڑے گا۔ کیونکہ سب جانتے ہیں کہ اتنی زیادہ بلندی پر آکسیجن نہیں ہوتی اگر ہوتی بھی ہے تو بہت کم ہوتی ہے۔ لہذا دماغ ہائپو کیا کا شکار ہوجائے گا اور وہ جسم پر اپنا توازن کھو بیٹھے گا۔ لیکن 21 ہزار فٹ کی بلندی پر کوئی بھی شخص آسانی سے سانس لے سکتا ہے اور اپنی جان بچانے کے طریقے بھی سوچ سکتا ہے اور اس طرح اپنے سامان کو اکٹھا کرکے اپنے گرنے کی رفتار کو کم یا زیادہ کر سکتا ہے۔ نوکیلی اور پتھریلی جگہ کے بجائے اگر کسی گھاس پوس زیادہ نرم برف والی جگہ پر لینڈنگ کی جائے تو انسانی جان بچ بھی سکتی ہے ۔
ہمارے نظام شمسی میں سب سے گرم مقام سورج ہے جس کا درجہ حرارت 58 سوکیلون ہے اور یہ ناقابل یقین حد تک زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر انسان کے جسم کو محض ایک نینو سیکنڈ کے لئے بھی سورج کی سطح کے قریب کردیا جائے تو جل کر خاک ہو جائے گا ۔
No comments: