باب لوط کا پراسرار کنواں
قیامت کی علامات کبریٰ میں سے دوسری علامت خروج دجال ہے۔ حضورا کرم مصطفی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دجال کی نشانیاں بھی ہمیں بتا دی ہے۔ اس کا لغوی مطلب جو ٹام کار حق اور باطل کو گڈمڈ کر دینے والا ہے ۔
یہ بات تو آپ نے سن رکھی ہوں گی کہ دجال کو حضرت عیسی علیہ السلام باب لوط کے مقام پر قتل کریں گے، لیکن ہم آج آپ کو بتانے والے ہیں ایک ایسے کنویں کے بارے میں جس سے بھی دجال کی طرف سے ہی منسوب کیا جاتا ہے۔ کیا ہے دجال سے منسوب اس کنویں کی حقیقت آخرکار آج ہم اسے آرٹیکل پہ نظر دوڑائیں گے تو آپ سب سے گزارش ہے کہ اس آرٹیکل کو مکمل پڑھے تاکہ آپ کا نالج ادھورا نہ رہ جائے ۔
کہا جاتا ہے کہ جب دجال مدینہ منورہ میں داخلے کی کوشش کرے گا تو فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے جہاں اس کو قتل کردیا جائے گا ۔ ایک روایت کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیسیٰ بن مریم دجال کو باب لودط کے مقام پر ختم کریں گے۔ اس حوالے سے جامع ترمذی کی حدیث بھی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
مسلمان جنگ کی تیاری کر رہے ہوں گے اور جب وہ اپنی صفیں درست کرلیں گے تو صلاۃ کا وقت ہو جائے گا عین اسی وقت عیسی ابن مریم نزول فرمائیں گے
ایک دوسری روایت میں ہے کہ
حضرت عیسیٰ ا بن مریم مشرقی دمشق میں میناروں کے قریب دو رنگ دار کپڑوں میں ملبوس دو فرشتوں کے پروں پر ہاتھ رکھے نزول فرمائیں گے ۔جب تک مسلمان نماز کی تیاری کر چکے ہوں گے۔ ان کے قائد و امام حضرت امام مہدی ہوں گے ۔
جیسے ہی حضرت امام مہدی مصلے پر کھڑے ہوں گے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو دیکھ کر انہیں امامت کروانے کا بولیں گے جب کہ حضرت عیسی بن مریم ان کے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر بولیں گے کہ
امامت آپ ہی کروائیں، یہ اقامت آپ ہی کے لئے کروائی گئی ہے
جب دروازہ کھلے گا تو اس کے پیچھے دجال اپنے 70ہزاریہودی ساتھیوں کے ساتھ موجود ہوگا۔ ہر ایک ہاتھ میں ایک تلوار اور سر پر تاج ہوگا۔ دجال جب حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف دیکھے گا تو وہ ایسے پگھلنا شروع ہو جائے گا جیسے پانی میں نمک پھیلتا ہے۔ وہاں سے بھاگ کھڑا ہوگا۔ حضرت عیسی علیہ السلام اس کو با بلب لوط کے مقام پر جا پکڑیں گے اور نیزے سے موت کے گھاٹ اتار دیں گے ۔
بابے لوط کے مقام پر ہی ایک کنواں بھی موجود ہے جس کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام دجال کو قتل کریں گے تو اس کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو اس کے اندر لٹکا دیا جائے گا ۔ باقی یہودی اپنے مسیحا کے حالت دیکھ کر عبرت حاصل کریں ۔ یہودی علماء اس بات کو جانتے ہیں اس لیے وہ اس کنویں کو ختم کرنے کی کوششوں میں بھی لگے ہوئے ہیں ۔
اسی غرض سے ایک سڑک کی تعمیر کا آغاز بھی کیا گیا جس کو اس کنویں کے اوپر سے ہو کر ہی گزرنا تھا لیکن ہزار ہا کوششوں کے بعد بھی وہ اس کنوئیں کو نہ بھر سکے اور نہ ہی اس کے اوپر سے سڑک تعمیر ہوسکی۔ جس کے بعد تھک ہار کر یہودی اس کو جوں کا توں چھوڑ آئے ہیں ۔

No comments: