کس طرح اس بوڑھے آدمی نے حیرت انگیز بنکر ہاؤس تعمیر کیا ?How This Old Man Constructed an Amazing Bunker House

How This Old Man Constructed an Amazing Bunker House


دوستوں کینیڈا میں ایک گاؤں ہے جس کا نام شیلبرن ہے۔  یہاں ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ رہتا ہے۔  اس آدمی کا نام بروس لیچ ہے۔  اس کی عمر پچاسی سال ہے اور یہ پہلے امریکہ میں رہتا تھا۔  یہاں پہ ایک الیکٹریکل انجینئر تھا۔  انیس سو سولہ میں جب ویتنام وار جاری تھے تو امریکن پریذیڈنٹ جان ایف کینیڈی نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ کافی سارا کھانا جمع کرلیں اور اپنے گھر میں ایک بام شیلٹر بھی بنا لیں تاکہ اگر امریکہ پر بھی حملہ ہو جائے تو لوگ اپنے گھر میں محفوظ رہے۔  یہ حالات دیکھ کر یہ آدمی بہت زیادہ ڈر گیا اور اس نے اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کینیڈا شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا اور یہ کینیڈا کے اس گاؤں میں آکر رہنے لگا اور یہیں پر اس نے شادی بھی کر لی ۔

اس آدمی کے دل میں ہمیشہ سے یہی ڈر تھا کہ دنیا میں کبھی بھی ایٹمی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ یہ بات اس کے دماغ کو اس حد تک جنونی بنانے لگی کہ اس نے فیصلہ کر لیا کہ یہ ایک ایسا گھر بنائے گا کہ اگر دنیا میں کبھی بھی ایٹمی جنگ چھیڑ دی جائے تو وہ ایٹمی جنگ اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے۔  اس کی بیوی کے پاس گاؤں میں زمین تھی جو کہ اس کی اپنی تھی تو بروس نے اس زمین کو استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا ۔

اس کے بعد اس آدمی نے سکول بسیں خریدنا شروع کر دی۔  اس کے اپنے علاقے اور اردگرد کے کسی بھی علاقے میں اگر کوئی سکول بس سستی مل رہی ہوتی تھی تو وہ اس کو خرید لیتا تھا اور یوں کرتے کرتے اس نے 42 بسیں خرید لی۔  لیکن یہ ایسا کیوں کر رہا تھا ؟

ایک تو وہ یہ سمجھتا تھا کہ کسی بھی بس کی چھت کسی بھی زور دار دھماکے سے بچنے کے لئے مؤثر ہو سکتی ہے۔  لیکن اس کے دماغ میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔  اس کے بعد اس نے اپنی بیوی کی زمین کو کھدوانہ  شروع کر دیا ۔ وہ یہاں پہ ایک اتنا بڑا گھڑا بنوانا چاہتا تھا جس میں یہ ساری بسیں کھڑی کی جا سکے۔  یہ بڑا تقریبا 14 فٹ گہرا تھا۔  ان بسوں کو آگے اور پیچھے سے کھول کر ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا یعنی کہ آپ بھی یہ چودہ فٹ گہرا اور 42 بسوں سے بنا ہوا ایک بہت بڑا گھر بن چکا تھا اور پھر ان بسوں کے اوپر مٹی اور کنکریٹ کی ایک مضبوط ترین چھت بنوا دی تاکہ ریڈیایشن اور اس کے بعد دھماکے سے بچا جا سکے۔  اب دور سے کسی طرح سے بھی پتہ نہ چلتا تھا کہ اس گھڑے کے نیچے یا اس زمین پہ کیا ہے۔  جس پر اس کے علاقے کے لوگ اور اس کے رشتے دار بھی اس پر ہنستے تھے۔  وہ سب اس کو پاگل سمجھتے تھے لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ وہ اس زمین کے نیچے کیا بنوا رہا ہے ۔

اس نے اس بنکر نما گھر کے نیچے دو کچن بھی بنوائے اور کھانے پینے کا ایک بہت بڑا ذخیرہ بنا لیا تاکہ کسی بڑی جنگ کی صورت میں اس کو کھانے پینے کا مسئلہ نہ ہو۔  

اس عجیب و غریب گھر میں ایک بہت بڑا سٹور بھی ہے جہاں پر اس نے ہتھیار رکھنے کی جگہ بنائی ہوئی ہے۔  تا کہ جنگ کی صورت میں یہ اپنی حفاظت کے لیے کام آ سکے۔  اس گھر میں ایک بہت بڑا واٹر ٹینک بھی ہے جس میں پانچ ہزار گیلن تک پانی جمع کیا جاسکتا ہے ۔

حیرت انگیز طور پر یہاں ایک ریڈیو کمیونیکیشن سینٹر بھی ہے جیسے کسی فوج کے کمانڈ سینٹر میں ہوتا ہے۔  اس گھر پہ ایک چھوٹا سا ہاسپٹل اور بہت سارے باتھ روم بھی ہے۔  اس گھر میں ایک سکیورٹی سنٹر بھی ہے جس میں بہت سارے پرانے ٹی وی اور کمپیوٹر رکھے گئے ہیں۔  یہاں سے یہ اپنا سارا گھر مانیٹر کر سکتا ہے۔  یہاں پر اس نے بجلی کے لیے جنریٹر بھی لگائے ہوئے ہیں۔ 

اندر سے یہ گھر ایک جنگی بنکر لگتا ہے۔  اس گھر میں ساڑھے تین سو لوگ سکون سے رہ سکتے ہیں۔  اس نے اس گھر کا نام آرک 2 رکھا ہے۔  

جب آپ اس کو باہر سے دیکھتے ہیں تو آپ کو صرف ایک چھوٹا سا گیٹ ہی نظر آتا ہے لیکن اندر کا ماحول پریشان اور حیران کر دینے کے لیے کافی ہے۔  وہ لوگ جو اس کا پہلے مذاق اڑاتے تھے وہ اس کی تکمیل پر یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئے۔  اس کی بیوی اور اس کے بچے اس کے اس جنون سے تنگ آ چکے ہیں لیکن وہ یہ مانتا ہے کہ دنیا میں بہت جلد ایک بہت بڑی جنگ کا آغاز ہو گا اور اس جنگ کے دوران اس کا یہ گھر ان کو حفاظت فراہم کرے گا ۔

ایک اچھا کام وہ یہ کر رہا ہے کہ اس نے اس گھر کو یتیم اور بے سہارا بچوں کے لئے بھی ڈیزائن کیا ہے۔  اس کے مطابق جب تک جنگ کا آغاز نہیں ہوتا تب تک وہ بچے یہاں پر رہ سکتے ہیں ۔

No comments:

Powered by Blogger.